کیا پرتگال میں نقاب پر پابندی واقعی سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر لگائی گئی ہے، یا پھر سیکورٹی کو صرف ایک بہانہ بنایا گیا ہے؟
ہماری ایکس مسلم کمیونٹی کی بڑی اکثریت اس طرح کے اقدامات کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتی ہے۔ بہرحال، ہر معاملے کی طرح اس کا ایک دوسرا فکری پہلو بھی ہے، اور میں اپنی یہ ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ اپنی کمیونٹی کے سامنے اس پہلو کو بھی رکھوں، تاکہ اگر اس معاملے میں ہم کہیں جذباتی یا سطحی رویے کا شکار ہیں، تو فکری طور پر اپنی اصلاح بھی کر سکیں۔
ڈیئر دوستو!
جب کوئی حکومت نقاب پر پابندی لگاتی ہے تو مذہبی رہنماؤں کو ایک موقع مل جاتا ہے کہ وہ اصل بحث سے فرار اختیار کریں۔ وہ فوراً یہ بیانیہ بناتے ہیں کہ "اسلام خطرے میں ہے"، "مسلمانوں پر حملہ ہو رہا ہے"، اور خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں۔ یوں بحث عورت کی آزادی، انسانی مساوات اور مذہبی تصورات کے بجائے صرف ریاستی پابندی کے گرد گھومنے لگتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نقاب پر پابندی بعض اوقات مذہبی طبقوں کے لیے ایک تحفہ بن جاتی ہے۔ انہیں اپنے نظریات کے دفاع کے لیے ایک نیا دشمن مل جاتا ہے۔
اگر واقعی حجاب اور نقاب کے تصور کو چیلنج کرنا ہے تو ہمیں اس کی بنیادی فکری بنیادوں پر سوال اٹھانے چاہئیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ عورت کے جسم کو "فتنے" کا ذریعہ کیوں سمجھا گیا؟ کیوں عورت کی عزت کو اس کے لباس اور جسم چھپانے سے جوڑا گیا؟ اور کیوں تاریخ کے بعض اسلامی معاشروں میں آزاد عورت اور باندی عورت کے لیے شرم و حیا کے الگ الگ معیار موجود تھے؟
یہاں ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے:
اگر عورت کا بال، چہرہ یا جسم مرد کی خواہش کو بھڑکانے والا سمجھا جاتا تھا، تو پھر وہی اصول باندی عورتوں پر اسی طرح کیوں لاگو نہیں ہوتا تھا؟ اگر پردہ واقعی ایک ابدی اخلاقی حکم تھا، تو غلام عورتوں کے لیے اس میں فرق کیوں رکھا گیا؟
سوال یہ ہے کہ اگر حجاب واقعی شرم و حیا ہے، تو پھر اسلام کا اللہ باندی عورتوں کو حجاب کے بغیر اور ننگے سینوں کے ساتھ پبلک میں کھڑا کروا کر بے حیائی اور بے شرمی کا ذمہ دار کیوں نہیں ٹہرا؟
سوال یہ ہے کہ ایک عورت کے حجاب نہ کرنے سے معاشرے میں فساد پیدا ہوتا ہے تو اسلامی معاشرے میں ہزاروں باندی عورتوں کے بغیر حجاب اور ننگے سینوں کی وجہ سے فساد کیوں نہیں پھیلا؟
یہ سوال کسی لباس کے ٹکڑے سے زیادہ گہرا ہے۔ یہ پورے اخلاقی نظام پر سوال اٹھاتا ہے جس میں عورت کی قدر، آزادی اور عزت کو اس کے سماجی درجے کے ساتھ بدل دیا جاتا تھا۔
میری نظر میں زیادہ مؤثر راستہ یہ نہیں کہ مغربی ریاستیں نقاب اتارنے کا حکم دیں، بلکہ یہ ہے کہ کھلی فکری بحث ہو، تاریخ سامنے رکھی جائے، اور مذہبی دعوؤں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔
کیونکہ پابندی سے ایک مظلومیت کا بیانیہ پیدا ہو سکتا ہے، لیکن سوال اٹھانے سے سوچ بدلتی ہے۔
علامتوں سے جنگ کرنے کے بجائے بنیادی نظریات کو چیلنج کرنا چاہیے۔ اگر کوئی تصور واقعی انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے خلاف ہے تو اسے دلیل کے ذریعے شکست دی جانی چاہیے، نہ کہ صرف قانون کے ذریعے دبایا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ڈیئر ایکس مسلمز!
آئیے اپنی خامیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
1۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی کمیونٹی اور غیر مسلموں اور خود مسلمانوں تک یہ "آگہی" پہنچانے میں اب تک برے طریقے سے ناکام ہیں کہ اسلام نے پبلک میں باندی عورت کے حجاب پر پابندی لگائی ہے اور اس کے سینے ننگے رکھے ہیں۔
باندیوں پر حجاب کی پابندی کا تو پھر پچھلی ایک دہائی میں لوگوں کو کچھ پتا چلنا شروع ہو گیا ہے، مگر ننگے سینوں والی حقیقت سے آج بھی بہت ہی کم لوگ اگاہ ہیں۔
2۔ چونکہ غیر مسلموں کو اسلام کی اس کمزوری کا علم نہیں ہے، اس لیے وہ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے اکثر نقاب پر سیکورٹی کے نام پر پابندی لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا فساد اس قدر بڑا ہے کہ ہمیں ایسے کسی ثانوی بہانے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور آگہی کے دم پر ہی اسلام کا مکمل قلع قمع کر دینا عین ممکن ہے۔
3۔ میں آپ کو حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں مسلمانوں سے 10 سال سے اس حجاب کے موضوع پر اردو اور انگریزی میں مسلم اپالوجسٹوں سے بحث و مباحثہ کر رہا ہوں اور ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ حجاب کے موضوع پر مسلمان باندی کا سوال آنے پر فرار ہو کر بھاگے نہ ہوں۔
یعنی اکثر مسلمان لولے لنگڑے بہانے بنا کر اسلام کا دفاع کرتے ہیں۔ مگر باندیوں کا مسئلہ اتنا شدید ہے کہ حجاب کے معاملے میں وہ لولے لنگڑے بہانے بنا کر بھی اسلام کا دفاع نہیں کر پاتے ہیں اور انہیں مکمل شہ مات کا سامنا ہوتا ہے۔
چنانچہ اپنی Strong Point کو سمجھیے، اور اسے دانشمندی سے استعمال کیجئے ۔۔۔ اور اس Strong Point کو ایسے پوائنٹ سے تبدیل نہ کیجئے کہ جس کا اثر کم ہو، یا الٹا ہو۔
بلکہ الٹا، جس طرح 5 وقت کی نماز کی اور تراویح کی میں بالکل مخالفت نہیں کرتا کیونکہ میرے نزدیک یہ مسلمانوں کو ایک "سزا" لگی ہوئی ہے، اسی طرح جو مسلمان خواتین خود سے حجاب اور برقعہ اور نقاب لے رہی ہیں، انہیں اس "سزا" میں مبتلا رہنے دیجئے، اور قانون سازی صرف یہ کیجئے کہ جو لڑکیاں اور بچیاں اپنے خاندان والوں کے دباؤ میں حجاب کر رہی ہیں، مگر وہ نہیں کرنا چاہتی ہیں، تو حکومت ان کی اتنے بڑے پیمانے پر امداد کرے کہ وہ گھر والوں کو چھوڑ کر بھی اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ اور اگر خاندان والے زبردستی حجاب کروا رہے ہیں تو انہیں سزا دینے کا قانون بنائیے۔ (اس موضوع پر تفصیلی پوسٹ پھر کبھی مستقبل میں کہ مغرب میں کون سے ایسے قوانین نہیں بن رہے ہیں جس کا اصل فائدہ ہو سکتا ہے مسلم اور اسلام کے فتنے و فساد کو روکنے کے حوالے سے)۔